امیدوار اور کارکن آخری ووٹ تک رسائی کے لیے بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں
یاسر احمد
گلگت بلتستان ایک بار پھر ملکی سیاست کے اہم ترین انتخابی معرکوں میں سے ایک کی جانب بڑھ رہا ہے۔ 7 جون 2026ء کو ہونے والے انتخابات محض 24 نشستوں پر نمائندوں کے انتخاب تک محدود نہیں بلکہ یہ خطے کی آئندہ سیاسی سمت، وفاق کے ساتھ تعلقات، آئینی حقوق اور ترقیاتی منصوبوں کے مستقبل کا بھی فیصلہ کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار انتخابی میدان میں غیر معمولی سیاسی سرگرمی، جوڑ توڑ اور صف بندی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
تقریباً دس لاکھ ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے یہ طے کریں گے کہ آنے والے پانچ برسوں میں گلگت بلتستان کی باگ ڈور کس سیاسی قوت کے ہاتھ میں ہوگی۔ انتخابی مہم اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور سیاسی جماعتوں کے قائدین، امیدوار اور کارکن آخری ووٹ تک رسائی کے لیے بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں۔ انتخابی مہم کے خاتمے کے ساتھ ہی عوامی عدالت کا فیصلہ بیلٹ بکس میں محفوظ ہو جائے گا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار 480 ہے، جبکہ 396 امیدوار میدان میں قسمت آزما رہے ہیں۔ اگرچہ امیدواروں کی تعداد خاصی زیادہ ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ اصل مقابلہ چند مضبوط سیاسی جماعتوں اور بااثر امیدواروں کے درمیان ہے جنہوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران اپنی انتخابی حکمت عملی کو بھرپور انداز میں منظم کیا ہے۔
گلگت بلتستان کی سیاست ہمیشہ سے قومی سیاسی رجحانات کی عکاس رہی ہے۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہاں اکثر وہی جماعت اقتدار میں آتی رہی ہے جو وفاق میں حکمران ہو۔ تاہم اس بار صورتحال قدرے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ مقامی مسائل، آئینی حیثیت، روزگار، بنیادی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کی سست روی نے ووٹرز کو روایتی سیاسی نعروں سے ہٹ کر عملی کارکردگی کا جائزہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔
انتخابات میں سب سے زیادہ زیرِ بحث مسئلہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت ہے۔ کئی دہائیوں سے جاری یہ بحث آج بھی عوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ سیاسی جماعتیں مختلف وعدے اور تجاویز پیش کر رہی ہیں، تاہم عوام اب محض وعدوں کے بجائے عملی پیش رفت دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی جلسوں میں آئینی حقوق، خود اختیاری، وسائل پر اختیار اور وفاقی نمائندگی جیسے موضوعات نمایاں رہے ہیں۔
دوسری جانب سی پیک، سیاحت اور قدرتی وسائل بھی اس انتخابی معرکے کے اہم سیاسی موضوعات بن چکے ہیں۔ گلگت بلتستان جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کا ایک نہایت اہم خطہ ہے اور چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کا مرکزی دروازہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں اس خطے کی معاشی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے عوام کو بہتر روزگار، سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے خواب دکھا رہی ہیں۔
اس انتخاب میں نوجوان ووٹرز ایک فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے انتخابی سیاست کا نقشہ بدل دیا ہے۔ نوجوان نسل روایتی سیاسی وابستگیوں کے بجائے امیدواروں کی کارکردگی، قابلیت اور عوامی رابطوں کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔ یہی رجحان کئی حلقوں میں انتخابی نتائج پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔
انتخابی عمل کے شفاف انعقاد کے لیے انتظامیہ اور الیکشن کمیشن نے وسیع انتظامات کیے ہیں۔ 1389 پولنگ سٹیشنز، 2450 پولنگ بوتھ اور ہزاروں انتخابی عملہ اس بڑے جمہوری عمل کو مکمل کرنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ سیکیورٹی کے لیے بارہ ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ ووٹرز بلا خوف و خطر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔
7 جون کا دن صرف ووٹ ڈالنے کا دن نہیں بلکہ گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ عوام کا فیصلہ یہ طے کرے گا کہ آیا خطہ روایتی سیاسی دھاروں کے ساتھ آگے بڑھے گا یا نئی سیاسی سوچ اور قیادت کو موقع دیا جائے گا۔ آنے والے نتائج نہ صرف نئی حکومت تشکیل دیں گے بلکہ یہ بھی واضح کریں گے کہ گلگت بلتستان کے عوام اپنے مستقبل، حقوق اور ترقی کے حوالے سے کس سمت کا انتخاب کرتے ہیں۔
اس انتخابی معرکے میں اصل طاقت عوام کے ووٹ میں پوشیدہ ہے، اور یہی ووٹ آنے والے برسوں کی سیاست، حکمرانی اور ترقی کا رخ متعین کرے گا۔
