پاکستان کے تمام شکاری حضرات سے ایک عاجزانہ درخواست ہے کہ اس معصوم اور خوبصورت پرندے پر رحم کریں۔
فاختہ — جو صدیوں سے امن، محبت اور سکون کی علامت سمجھی جاتی ہے — اب ہمارے دیس میں نایاب ہوتی جا رہی ہے۔
کبھی پنجاب کے کھیتوں، بلوچستان کے باغوں، سندھ کے پیلو درختوں اور خیبر پختونخوا کے چراگاہوں میں ان کی کوکو سنائی دیتی تھی۔
آج وہ آوازیں مدھم ہو چکی ہیں۔ پانی کی کمی، درختوں کی کٹائی، اور ماحول کی بگاڑ نے ان کے گھونسلے اجاڑ دیے ہیں۔ مقامی درختوں کی جگہ غیرملکی درخت لگانے اور فصلوں میں کمی نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
فاختہ بہت ہی نرم دل اور بے ضرر پرندہ ہے۔ اس میں شکاریوں سے بچنے کی چالاکی کم ہوتی ہے، اسی لیے اکثر نئے شکاری اپنی نشانہ بازی کی مشق اسی پر کرتے ہیں۔کبھی ایک غول میں سو سے زیادہ فاختائیں دکھائی دیتی تھیں،
لیکن اب ان کے غول ماضی کی بات بنتے جا رہے ہیں۔
سال میں دو بار انڈے دینے والی یہ ماں 21 دن تک اپنے انڈوں پر بیٹھی رہتی ہے، اور کوؤں سمیت کئی دشمنوں سے ان کی حفاظت کرتی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ “فاختہ حلال پرندہ ہے، اللّٰہ نے کھانا جائز رکھا ہے” —
مگر بھائیو! مرغی بھی حلال ہے، تو کیا ہم روز اس کا شکار کرتے ہیں؟
اللّٰہ کا خوف کرو، اگر فاختہ سے محبت ہے تو ان کی حفاظت میں ہاتھ بٹاؤ۔
درخت لگاؤ، باجرہ ڈالو، پانی کے برتن رکھو، اور ان کے لیے وہی فطری ماحول واپس لاؤ جس میں وہ سکون سے جی سکیں۔ ہم نے اپنے بچپن میں ان کی مدھر آواز سنی تھی، جب دادی اماں پیار سے کہا کرتی تھیں:
“کُگو کُو یوسف کُھو”
آج نہ وہ دن رہے، نہ وہ آوازیں۔
مگر اگر ہم چاہیں تو وہ دور لوٹ سکتا ہے۔
آؤ مل کر فاختہ کو بچائیں —
کیونکہ فاختہ صرف ایک پرندہ نہیں، یہ ہمارے امن، محبت اور ماضی کی یادوں کی نشانی ہے۔ اللّٰہ پاک ہم سب کو رحم دل بنائے۔
آمین یا رب العالمین
