ایک چراغ جو روشنی بانٹتا رہا-ڈاکٹر عزیز اللہ
کچھ لوگ اپنی کامیابی کی منزل پر پہنچ کر رک جاتے ہیں، اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی منزل کو دوسروں کے لیے راستہ بنا دیتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے نام کے آگے ایک عہدہ یا ڈگری کا اضافہ کرتے ہیں، جبکہ کچھ اور اپنے کام سے ایک پورے علاقے کی شناخت بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عزیز اللہ صاحب کا سفر اسی دوسری روایت کی ایک خوب صورت اور روشن تصویر ہے۔
ڈائریکٹر اقراء پبلک سکول اینڈ کالج ثمرباغ ڈاکٹر عزیز اللہ صاحب نے فائنانس کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کرلی ہے۔ یہ کامیابی یقیناً ان کی ذاتی علمی زندگی کا ایک اہم باب ہے، مگر ان کے سفر کو صرف ایک ڈگری کے حصول تک محدود کرنا شاید اس داستان کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ اس کامیابی کے پیچھے برسوں پر محیط وہ سفر ہے جس میں طالب علم، استاد، منتظم، محقق اور ایک تعلیمی خدمت گار—سب ایک ہی شخصیت میں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا تعلیمی سفر اسی ادارے سے شروع ہوا جس کا آج وہ آبیار ہے۔ اقراء پبلک سکول اینڈ کالج ثمرباغ سے میٹرک کیا اور اسی زمانے میں اپنے والد مولانا نقیب احمد مرحوم کے آغوش شفقت میں حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی۔ بعد ازاں ڈگری کالج غازی عمرا خان سے ایف ایس سی مکمل کیا، اسی اثناء انہوں نے نے تفسیر، کتب حدیث وفقہ اور دیگر فنون بھی پڑھا۔ تعلیم کی پیاس مگر یہاں بجھنے والی نہیں تھی۔ علم ان کے لیے ایک ایسا افق تھا جو ہر قدم کے بعد مزید وسیع ہوتا گیا۔ پشاور یونیورسٹی سے فائنانس اور اکنامکس میں ماسٹر کیا اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولڈ مڈل حاصل کیا۔ اس کے بعد اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد سے فائنانس میں ایم فل کیا اور بالآخر قرطبہ یونیورسٹی پشاور سے فائنانس ہی میں پی ایچ ڈی مکمل کرکے اپنے علمی سفر میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا۔ لیکن اس سفر کی سب سے خوب صورت بات یہ ہے کہ وہ خود ڈاکٹریٹ کی منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی سینکڑوں طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے قابل بنا چکے ہیں۔ شاید یہی ایک استاد کی اصل کامیابی ہے۔
ایک ادارہ، جو محض عمارت نہیں؛
ثمرباغ میں ڈاکٹر عزیز اللہ صاحب کا نام آئے تو صرف ایک تعلیمی ادارہ ذہن میں نہیں آتا، بلکہ ایک ایسی کوشش دکھائی دیتی ہے جس نے علاقے کے تعلیمی منظرنامے کو نئی سمت دینے کی کوشش کی۔ اقراء پبلک سکول اینڈ کالج کے ذریعے انہوں نے طلبہ کو صرف نصابی کتابوں تک محدود رکھنے کے بجائے ان کی ذہنی تربیت، اخلاقی نشوونما، شخصیت سازی اور مستقبل کی منصوبہ بندی پر بھی توجہ دی۔ ادارہ ان کے لیے محض کلاس رومز، کرسیاں اور تختۂ سیاہ کا مجموعہ نہیں رہا؛ بلکہ نئی نسل کے خوابوں کی تکمیل کا جذبہ اور جنون ہے۔ سینکڑوں غریب، یتیم اور مستحق طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کرنا بھی اسی خدمت کا ایک اہم پہلو ہے۔ کسی ضرورت مند بچے کے ہاتھ میں کتاب تھما دینا بظاہر ایک چھوٹا سا عمل ہے، مگر کبھی کبھی یہی کتاب کسی خاندان کی تقدیر بدل دیتی ہے۔ شاید اسی لئے تعلیمی ادارے اینٹوں اور سیمنٹ سے نہیں، ان خوابوں سے بنتے ہیں جو ان کی چھت کے نیچے پروان چڑھتے ہیں۔
ثمرباغ کے تعلیمی افق پر نئی روشنی؛
پھر خدمت کا یہ سفر ایک اور اہم موڑ پر پہنچا اور ثمرباغ میں علاقے کا پہلا کالج قائم کیا۔ یہ محض ایک نئے ادارے کا اضافہ نہیں تھا؛ یہ اس سوچ کا عملی اظہار تھا کہ ثمرباغ کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے لازماً پشاور، اسلام آباد یا دوسرے بڑے شہروں کا رخ کیوں کرنا پڑے؟
آج علاقے کے طلبہ و طالبات کو اپنے ہی خطے میں معیاری تعلیم کے مواقع میسر ہیں۔ جس علم کے لیے کبھی دور دراز شہروں کی طرف رخ کرنا پڑتا، اس کے دروازے اب اپنے علاقے میں کھل چکے ہیں۔ یہ تبدیلی شاید ایک دن میں محسوس نہ ہوئی ہو، لیکن بڑے تغیرات ہمیشہ ایک ہی دن میں رونما نہیں ہوتے؛ ان کے پیچھے چھوٹے مگر مسلسل قدموں کی ایک طویل داستان ہوتی ہے۔ ثمرباغ کی تعلیمی ترقی کی کہانی میں اگر چند روشن سنگِ میل تلاش کئے جائیں تو اقراء پبلک سکول اور پھر کالج کا قیام ان میں نمایاں نظر آتا ہے، اور ان دونوں کے پس منظر میں ڈاکٹر عزیز اللہ صاحب کی محنت اور وژن کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
والد کی میراث، کردار کی صورت میں؛
ڈاکٹر عزیز اللہ صاحب کی شخصیت میں ان کے والدِ محترم کی بصیرت اور معاملہ فہمی کی جھلک بھی محسوس ہوتی ہے۔ شاید بعض میراثیں زمین، جائیداد یا دولت کی شکل میں نہیں ملتیں؛ کچھ میراثیں سوچ، کردار اور خدمت کی صورت میں نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔ تھانہ کچہری کے معاملات ہوں، لوگوں کے باہمی اختلافات ہوں، صلح صفائی کا معاملہ ہو یا جرگہ—وہ اپنی بساط کے مطابق لوگوں کے مسائل کے حل اور باہمی اتفاق کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
یہ وہ خدمت ہے جس کا کوئی باقاعدہ دفتر نہیں ہوتا، کوئی اوقاتِ کار مقرر نہیں ہوتے اور نہ ہی ہر خدمت کی کوئی رسید ملتی ہے۔ اس کا صلہ اکثر لوگوں کی دعاؤں اور معاشرے کے اعتماد کی صورت میں ملتا ہے۔
گلشن نقیب کی آبیاری؛
والد گرامی نے الجامعۃ العربیۃ الاسلامیۃ لعلوم القرآن ثمرباغ کی بنیاد رکھی، تو ان کے بعد آپ اس مشن کے امین بنے، اور اس علمی مشن کی شمع کو تھامے رکھا۔ ہمہ وقت سینکڑوں طلباء علوم نبوت کی خدمت کو اپنی ذمی داری سمجھا۔ صرف گلشن نقیب ہی نہیں، درجنوں مساجد اور کنوؤں کی تعمیر میں کردار ادا کرتے رہے۔
ڈاکٹر کی ڈگری اور خدمت کی اصل پہچان؛
آج ڈاکٹر عزیز اللہ صاحب کے نام کے ساتھ “ڈاکٹر” کا اضافہ ہوگیا ہے۔ مگر ان کی شخصیت کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اصل عنوان ڈگری نہیں، سفر ہے۔ یہ سفر ایک ایسے طالب علم سے شروع ہوا جو علم کی تلاش میں آگے بڑھتا رہا؛ پھر وہ استاد بنا، تعلیمی ادارہ سنبھالا، نسلِ نو کی تربیت کی، مستحق بچوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھولے، ثمرباغ میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیدا کیے اور آخرکار تحقیق کے میدان میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرلی۔ یہ ڈگری ان کے سفر کا اختتام نہیں، بلکہ برسوں کی جدوجہد پر ثبت ایک روشن مہر ہے۔ ڈاکٹر عزیز اللہ صاحب ان لوگوں میں سے ہیں جن کے لیے کامیابی صرف یہ نہیں کہ انسان خود کتنی بلندی پر پہنچا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے کتنے لوگوں کے لیے بلندی تک پہنچنے کا راستہ آسان ہوا۔
خراجِ تحسین؛
ڈاکٹر عزیز اللہ صاحب کو پی ایچ ڈی کی تکمیل پر مبارک باد دینا دراصل ایک ایسی شخصیت کی علمی کامیابی کو سراہنا ہے جس نے اپنی صلاحیتوں کو صرف اپنی ذات کے دائرے میں محدود نہیں رکھا۔
آپ کی کامیابی اس چراغ کی مانند ہے جس کی روشنی صرف چراغ دان تک محدود نہیں رہتی بلکہ آس پاس کے اندھیروں کو بھی کم کرتی ہے۔ آپ نے علم کو اپنی منزل بھی بنایا اور دوسروں کے لیے راستہ بھی؛ اداروں کو عمارتوں سے آگے بڑھا کر امیدوں کا مرکز بنانے کی کوشش کی؛ اور ثمرباغ کے تعلیمی افق پر وہ نقش چھوڑا جس کے اثرات آنے والے برسوں میں بھی محسوس کئے جائیں گی۔ آپ کی اصل پہچان صرف آپ کے نام کے ساتھ جڑی “ڈاکٹر” کی سند نہیں، بلکہ وہ چہرے ہیں جن کی آنکھوں میں آپ کے اداروں نے مستقبل کے خواب روشن کیے۔

ڈاکٹر عزیز اللہ صاحب!
آپ کو یہ اعزاز مبارک ہو کہ آپ نے علم کی ایک منزل طے نہیں کی، بلکہ اپنے علاقے کے لیے علم کی کئی راہیں کھولنے کی کوشش کی ہے۔ آپ کی کامیابی آپ کے خاندان کے لیے باعثِ فخر، آپ کے طلبہ کے لیے حوصلے کا چراغ، آپ کے رفقا کے لیے مسرت اور ثمرباغ کے لیے ایک خوش آئند علمی حوالہ ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم کو نفع بخش بنائے، آپ کی کاوشوں کو قبولیت عطا فرمائے، آپ کے اداروں کو مزید ترقی دے اور آپ کو آنے والی نسلوں کے لیے علم، کردار اور خدمت کی اسی روشن روایت کا امین بنائے۔ دل کی گہرائیوں سے مبارک باد۔✍️حمدیات
