صرف چند منٹ اپنے لیے نکالیے اور اپنے دل سے ایک سوال کیجیے

Spread the love

وہ کون سی چیز ہے… جس کے چلے جانے کے بعد انسان صرف ایک خاموش جسم بن کر رہ جاتا ہے؟


کبھی رات کے کسی پرسکون لمحے میں، جب ہر طرف خاموشی ہو اور کوئی آپ کو پریشان کرنے والا نہ ہو، صرف چند منٹ اپنے لیے نکالیے اور اپنے دل سے ایک سوال کیجیے: میں حقیقت میں کون ہوں؟ کیا میری پہچان صرف یہ جسم ہے؟ یہ چہرہ، یہ آنکھیں، یہ ہاتھ، یہ آواز، یا ان سب کے اندر کوئی ایسی حقیقت بھی موجود ہے جو میری اصل شناخت ہے؟ ہم ساری زندگی اپنے نام، اپنے رشتوں، اپنی کامیابیوں اور اپنی ظاہری شخصیت کو اپنی پہچان سمجھتے رہتے ہیں، مگر شاید کبھی اس سوال پر ٹھہر کر غور ہی نہیں کرتے کہ اگر یہ سب کچھ ختم ہو جائے تو آخر باقی کیا رہ جاتا ہے؟
ذرا ایک منظر اپنے ذہن میں لائیے۔ ایک انسان چند لمحے پہلے تک ہنس رہا تھا، اپنے بچوں سے باتیں کر رہا تھا، دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا، مستقبل کے منصوبے بنا رہا تھا، خوشیاں بانٹ رہا تھا۔ پھر اچانک ایک لمحہ آیا اور سب کچھ بدل گیا۔ اب بھی وہی جسم ہے، وہی چہرہ ہے، وہی آنکھیں ہیں، وہی دل ہے، وہی دماغ ہے، لیکن نہ وہ کسی کو پہچان سکتا ہے، نہ جواب دے سکتا ہے، نہ ایک لفظ بول سکتا ہے، نہ ایک قدم اٹھا سکتا ہے۔ آخر ایسا کیا ہوا؟ ایسی کون سی چیز تھی جو خاموشی سے جدا ہو گئی اور ایک زندہ انسان لمحوں میں بے جان ہو گیا؟
یہی وہ سوال ہے جس نے صدیوں سے انسان کو حیران کر رکھا ہے۔ انسان نے سمندر پار کر لیے، پہاڑ کاٹ دیے، آسمانوں تک رسائی حاصل کر لی، جسم کے اندر موجود حیرت انگیز نظام کو سمجھ لیا، مگر اس ایک حقیقت کی مکمل حقیقت آج بھی انسان کی پہنچ سے باہر ہے۔ شاید اس لیے کہ ہر چیز کو آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا، ہر حقیقت کو مشینوں سے نہیں ناپا جا سکتا، اور ہر راز کو عقل اکیلے نہیں کھول سکتی۔
افسوس یہ ہے کہ ہم اپنی پوری زندگی اس چیز پر خرچ کر دیتے ہیں جو ایک دن مٹی میں مل جانے والی ہے۔ ہم جسم کو خوبصورت بنانے میں وقت لگاتے ہیں، مہنگے کپڑے خریدتے ہیں، خوشبو لگاتے ہیں، آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو سنوارتے ہیں، مگر کبھی اپنے دل کے آئینے میں جھانک کر نہیں دیکھتے کہ وہاں کیا چل رہا ہے۔ کہیں حسد تو نہیں؟ کہیں غرور تو نہیں؟ کہیں جھوٹ، نفرت، غیبت، ظلم یا کسی کا حق مارنے کا بوجھ تو نہیں؟ یہ وہ داغ ہیں جو کپڑوں پر نہیں دکھائی دیتے، مگر انسان کی اصل حقیقت کو اندر سے کمزور کر دیتے ہیں۔
ہم دنیا میں کامیابی کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔ اچھی نوکری، بڑا گھر، نئی گاڑی، زیادہ دولت، زیادہ شہرت اور زیادہ عزت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ اہم ہو سکتا ہے، لیکن کبھی یہ بھی سوچا کہ اگر آج اچانک زندگی ختم ہو جائے تو ان میں سے کون سی چیز ہمارے ساتھ جائے گی؟ ہمارے بینک اکاؤنٹ، ہماری تصویریں، ہمارے سوشل میڈیا کے فالوورز، ہمارے عہدے، ہماری تعریفیں… سب یہی رہ جائیں گے۔ ہمارے ساتھ صرف وہی چیز جائے گی جو ہم نے اپنے کردار، اپنے ایمان، اپنی نیت اور اپنے اعمال میں جمع کی ہوگی۔
پھر ایک دن وہ لمحہ ضرور آئے گا جس سے کوئی نہیں بچ سکا۔ نہ بادشاہ، نہ فقیر، نہ طاقتور، نہ کمزور، نہ جوان، نہ بوڑھا۔ اس لمحے انسان کو احساس ہوگا کہ اصل تیاری تو کسی اور سفر کی تھی، مگر ہم پوری زندگی کسی اور منزل کے لیے سامان جمع کرتے رہے۔ تب سمجھ آئے گی کہ اصل دولت وہ نہیں تھی جو بینک میں تھی، بلکہ وہ تھی جو ہمارے اعمال میں محفوظ تھی۔ اصل خوبصورتی چہرے کی نہیں، دل کی تھی۔ اصل کامیابی لوگوں کی تعریف نہیں، بلکہ اپنے رب کی رضا تھی۔
اب شاید آپ سمجھ گئے ہوں کہ میں کس حقیقت کی بات کر رہا تھا۔ وہ روح ہے۔ یہی انسان کی اصل پہچان ہے، یہی اس کی حقیقت ہے، اور یہی وہ امانت ہے جو ایک دن اپنے رب کی طرف لوٹ جائے گی۔ جسم وقت کے ساتھ مٹی میں مل جاتا ہے، لیکن روح کا سفر جاری رہتا ہے۔ اسی لیے آج بھی وقت ہے کہ ہم اپنے دلوں کو صاف کریں، اپنے رب سے معافی مانگیں، نماز کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کریں، لوگوں کے حقوق ادا کریں، اپنے اخلاق بہتر کریں اور اپنی اصل حقیقت کو سنوارنے کی فکر کریں۔
کیونکہ ایک دن یہ جسم خاموش ہو جائے گا، یہ آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گی، یہ زبان رک جائے گی، دل دھڑکنا چھوڑ دے گا، اور لوگ ہمیں قبر تک چھوڑ کر واپس آ جائیں گے۔ مگر ہمارا سفر وہیں ختم نہیں ہوگا۔ اس دن سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ ہم کتنے خوبصورت تھے، کتنے مشہور تھے یا ہمارے پاس کتنی دولت تھی، بلکہ یہ ہوگا کہ جب ہم اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوئے تو ہماری روح کس حال میں تھی، اور کیا ہم اس ملاقات کے لیے واقعی تیار تھے؟