وحشیوں نے پہلے ماں کی آبرو لوٹی _ یہ کہانی انسانیت کا جنازہ ہے

Spread the love

کچے کا ناسور ظلم کی انتہا اور ریاست کی خاموشی!

تصویر میں نظر آنے والی مظلوم ماں اور اس کی 11 سالہ معصوم بیٹی کی یہ کہانی انسانیت کا جنازہ ہے کچے کے بے رحم ڈاکوؤں نے پہلے اس معصوم بچی کو اغوا کیا۔ ماں نے ممتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر، منت سماجت کر کے کچھ پیسوں کا بندوبست کیا اور بیٹی کو چھڑانے کچے کے علاقے پہنچی، لیکن وہاں جو ہوا، وہ سن کر روح کانپ اٹھتی ہے ان وحشیوں نے پہلے ماں کی آبرو لوٹی،اور سارے پیسے بھی چھین لیے، اور پھر ظلم کی انتہا کرتے ہوئے اس معصوم بچی کو ماں کے سامنے ہی کسی دوسرے شخص کو بیچ دیا۔ یہ صرف ایک جرم نہیں، انسانیت اور ہماری غیرت پر سب سے بڑا وار ہے۔

کچے کے علاقے میں یہ متوازی ریاست کب تک قائم رہے گی؟ یہ ڈاکو اتنے بااختیار کیوں ہیں اور ان کے پیچھے چھپے بااثر عناصر کو بے نقاب کیوں نہیں کیا جاتا؟
پشتونوں کو چن چن کر کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں کیوں اغوا کیا جاتا ہے؟

ریاست اور حکومت وقت کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کرے ہمارا مطالبہ ہے کہ سندھ حکومت اور وفاقی ادارے فوری طور پر کچے کے علاقے میں ایک بڑا اور فیصلہ کن فوجی و پولیس آپریشن شروع کریں، ان ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ کیا جائے، اور معصوم بچی کو بازیاب کرا کے مجرموں کو سرعام عبرت کا نشانہ بنایا جائے۔ اب زبانی دعووں کا وقت ختم ہو چکا ہے، ہمیں عملی کارروائی چاہیے۔
تمام پشتون بھائیوں اور انسانیت پسند لوگوں سے اپیل ہے کہ اس مظلوم ماں کی آواز بنیں۔ اس پوسٹ کو اتنا شیئر کریں کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمران جاگنے پر مجبور ہو جائیں۔ اگر آج انصاف نہ ملا تو عوام کا ریاست پر سے اعتبار ہمیشہ کے لیے اٹھ جائے گا۔