عوام کا جوش و جذبہ اور اپنے محافظوں پر اعتماد ہی وہ اصل طاقت ہے
آج جب ہم اس معرکے کو یاد کرتے ہیں تو یہ دن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں وہی اتحاد پیدا کریں جو ’بنیان المرصوص‘ کا خاصہ تھا۔ یہ معرکہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق کی فتح یقینی ہے بشرطیکہ ہم حق پر ثابت قدم رہیں اس جدوجہد میں صحافیوں اور میڈیا کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ایک صحافی کی قلم اور میڈیا کی آواز حقائق کو عوام تک پہنچا کر نہ صرف شعور بیدار کرتی ہے بلکہ باطل کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے میں بھی اہم ہتھیار ثابت ہوتی ہے۔

میڈیا پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا نظریاتی محافظ بنے اور قوم کے مورال کو بلند رکھے۔ اسی طرح عوام کا جوش و جذبہ اور اپنے محافظوں پر اعتماد ہی وہ اصل طاقت ہے جو کسی بھی معرکے کا پانسہ پلٹ دیتی ہے۔ جب عوام ، میڈیا اور ادارے ایک بیانیے پر متحد ہو جاتے ہیں تو کامیابی قدم چومتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسانوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھاما اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے تو نصرتِ الٰہی نے ان کے قدم چومے۔ ’بنیان المرصوص‘ اسی ابدی سچائی کا ایک روشن باب ہے جو ہمیں آج بھی اتحاد، دیانتدارانہ صحافت اور عوامی بیداری کا درس دیتا ہے۔
