تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہِ مزدور کے اوقات!
یکم مئی یعنی یومِ مزدور، ان ہاتھوں کے نام ہے جو پتھروں کو تراش کر عمارتیں کھڑی کرتے ہیں اور جن کے پسینے کی خوشبو سے دنیا کا پہیہ چلتا ہے۔ مزدور صرف ایک کام کرنے والا نہیں، بلکہ وہ کائنات کا وہ معمار ہے جس کی تھکن میں دنیا کا سکون پوشیدہ ہے۔ جہاں زاہد کی بندگی مصلے پر ہوتی ہے، وہیں مزدور کی بندگی اس کی دیانتدارانہ مشقت اور حلال رزق کی تگ و دو ہے🌸
زاہد کا ہے فخر اگر محرابِ عبادت
مزدور کے ہاتھوں کا ہے ہر چھالہ عبادت
