آج ایک مشہور ٹک ٹاکر اوٹ لوفرہ اس دنیا سے چلی گئی۔
1.2 ملین فالوورز، لائیوز، گفٹس اور وقتی شہرت — سب یہیں رہ گیا۔
سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنا آسان ہے، مگر عزت اور اچھا نام چھوڑ کر جانا مشکل ہے۔
کہا جاتا ہے کہ نامناسب لائیوز اور غیر اخلاقی مواد سے کمائی ہو رہی تھی، مگر انجام ایسا آیا کہ عید کے دن ہی دونوں زندگیاں ختم ہوگئیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے:
آج نہ فالوورز کام آئے، نہ گفٹس، نہ وہ شور جو لائیو میں ہوتا تھا۔
انسان کے جانے کے بعد صرف اس کے اعمال یاد رکھے جاتے ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ کچھ لوگ شہرت کیلئے ہر حد پار کر دیتے ہیں، مگر جب پردہ گرتا ہے تو دنیا خاموش ہو جاتی ہے۔
سوشل میڈیا کھیل نہیں — یہ کردار کی پہچان بن جاتا ہے۔
آؤ فیصلہ کریں:
ٹک ٹاک کو فحاشی نہیں، اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔
ایسی باتیں چھوڑ جائیں جن پر لوگ بعد میں دعا کریں، نہ کہ افسوس۔
اللہ ہم سب کو صحیح راستہ دکھائے۔ آمین
